حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم نے عراق میں حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر امریکی۔سعودی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ثقافتِ عاشورا، اربعین حسینی اور محورِ مقاومت کے خلاف استکباری سازش قرار دیا ہے۔
دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اربعین سے قبل اس حملے کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کو غیر محفوظ بنانا اور ایران و عراق کے عوام کے درمیان مقاومت پر مبنی مضبوط تعلقات کو کمزور کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حشد الشعبی نے مرجعیت کے فتوائے جہاد اور شہید قاسم سلیمانی و شہید ابو مہدی المهندس کی قیادت میں داعش کے خاتمے اور خطے کے امن کے قیام میں تاریخی کردار ادا کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے کے وقت کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن ثقافتِ عاشورا اور مسلمانوں کے اتحاد سے خوف زدہ ہے۔ دفتر تبلیغات اسلامی نے اسلامی ممالک، خصوصاً خلیج فارس کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ اور صہیونی منصوبوں کا حصہ بننے کے بجائے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو فروغ دیں اور قرآن و عترت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کریں۔
بیان میں امتِ مسلمہ پر زور دیا گیا کہ وہ اتحاد و یکجہتی کے ذریعے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائے اور شہدائے مقاومت کی قربانیوں کو استحکامِ مقاومت کا سرمایہ سمجھے۔









آپ کا تبصرہ